مزاحیہ اردو کہانیاں
ایک گاؤں میں ایک بڑھیا رہتی تھی ۔اس کا ایک کام چور بیٹا تھا ،شیخی بگھارنے میں بہت ماہر تھا ،اس کواگلے دن ماں نے کہا”اب تم کچھ کام کرو،جنگل سے لکڑیاں ہی لا کر بیچ دیا کرو تاکہ گزراوقات ہو سکے۔“
شیخ چلی نے جنگل کی راہ لی ۔جو درخت اس کے راستے میں آتا ،و ہ اس سے پوچھتا۔”میں تجھے کاٹ لوں یا نہیں ۔درخت بولا”ہاں کاٹ لے مگر ایک نصیحت کرتا ہوں ۔
شیخ چلی نے درخت کی ہدایت کے مطابق اس سے لکڑیاں کاٹ کر پلنگ تیار کیا اور بادشاہ کے دربار میں پہنچا۔
بادشاہ حیران ہو ا اور شیخ چلی کے کہنے پر نوکروں کو حکم دیا کہ آج یہی پلنگ میرے کمرے میں بچھایا جائے ۔
رات ہوئی بادشاہ اسی پلنگ پر سویا تو آدھی رات کو پلنگ کا ایک پایا بولا”آج بادشاہ کی جان خطرے میں ہے ۔“
دوسرے نے کہا ”وہ کیسے ․․․․؟“
تیسرا بولا ”بادشاہ کے جوتے میں کالا سانپ تھا۔“چوتھے نے کہا ”بادشاہ کو چاہیے کہ صبح جوتے کو اچھی طرح جھاڑ کر پہنے ۔
صبح واقعی ایسا ہی ہوا ۔بادشاہ کے جوتے میں سانپ تھا جوتے جھاڑنے کی وہ سے سانپ نکل کر بھاگ گیا،اس طرح بادشاہ کی جان محفوظ رہی۔
دوسری رات جب بادشاہ سویا تو پھر پایوں نے باتیں شروع کیں ۔ایک بولا کہ تم پلنگ کو سنبھالے رکھو۔
میں کچھ خبریں جمع کرلوں ۔تینوں پایوں نے پلنگ کو تھامے رکھا۔
چوتھا واپس آیا تو اس نے خبر سنائی کہ بادشاہ کا وزیر سازش کرکے بادشاہ کو ختم کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے ۔پھر دوسرا پایا گیا اور خبر لایا کہ بادشاہ کی بیوی وزیر سے مل کر بادشاہ کو زہر دینا چاہتی ہے ۔
تیسرے پائے نے تجویز پیش کی کہ بادشاہ کو چاہیے کہ وزیر کو مروادے ۔چوتھا پایا گیا اور یہ خبر لایا کہ بادشاہ کو جو دودھ صبح پینے کو دیا جائے گا،اس میں زہر ہو گا۔
بادشاہ یہ سب کچھ سن رہا تھا۔صبح اٹھ کر جب اسے دودھ دیا گیا تو اس نے نہ پیا بلکہ ایک بلی کو پلا دیا۔

Comments
Post a Comment