مزاحیہ اردو کہانیاں
ایک گاؤں میں ایک بڑھیا رہتی تھی ۔اس کا ایک کام چور بیٹا تھا ،شیخی بگھارنے میں بہت ماہر تھا ،اس کواگلے دن ماں نے کہا”اب تم کچھ کام کرو،جنگل سے لکڑیاں ہی لا کر بیچ دیا کرو تاکہ گزراوقات ہو سکے۔“ شیخ چلی نے جنگل کی راہ لی ۔جو درخت اس کے راستے میں آتا ،و ہ اس سے پوچھتا۔”میں تجھے کاٹ لوں یا نہیں ۔ “کسی درخت نے بھی اس کا جواب نہ دیا۔شام ہونے کو تھی ،شیخ چلی گھر واپس آنے کا ارادہ کرہی رہا تھا کہ ایک درخت نظر آیا،اس نے پاس جاکر پوچھا۔”میں تجھے کاٹ لوں ․․․․․؟“ درخت بولا”ہاں کاٹ لے مگر ایک نصیحت کرتا ہوں ۔ میری لکڑی سے پلنگ بنانا اور بادشاہ کے دربار میں لے جانا،اگر بادشاہ اس کی قیمت پوچھے تو کہنا کہ پہلے ایک دوراتیں اس پر سوئے ،پھر اگر مناسب سمجھے تو خرید لے۔“ شیخ چلی نے درخت کی ہدایت کے مطابق اس سے لکڑیاں کاٹ کر پلنگ تیار کیا اور بادشاہ کے دربار میں پہنچا۔ بادشاہ نے قیمت پوچھی تو شیخ چلی نے کہا”پہلے آپ اس کو ایک دو رات استعمال کریں ،اگر اس میں کوئی خوبی پائیں تو انعام کے طور پر جو دل چاہے دے دیں ۔“ بادشاہ حیران ہو ا اور شیخ چلی کے کہنے پر نوکروں کو حکم دیا کہ آج ی...